ایک دوست نما کے نام کھلا خط
ــــــــــــــــــــــــــ
تم اپنے رویئے پر غور کرو، میں نے جب بھی دی تمہیں عزت ہی دی اور تم نے جب بھی اچھالی میرے منہ پر خاک اچھالی، میں نے تمہیں دوست بنایا اور صاف کہدیا مجھے تمہارے نظریات سے کوئی غرض نہیں، تم ایک دوست ہو اور دوست رہوگےاور تمہارا یہ حال ہے کہ پشت پر وار کے مواقع ڈھونڈتے ہو، مجھے معلوم ہے تم مطالعے کی ابتدائی سٹیج پر ہو یہ ابتدائی مطالعہ چیری جیسی تاثیر رکھتا ہے، اس تاثیر کے زیر اثر تم بد ہضمی کا شکار ہو،سو جو نگلا ہے اسے اگلنے کو بیقرار ہو، تم میری وال کو پبلک ٹوائلیٹ سمجھ کر دوڑے چلے آتے ہو، یہاں موقع نہ ملے تو اپنی ہی وال کو حالیہ تاریخ کا ڈی چوک بنا دیتے ہو، بظاہر تمہیں روایتی مولویوںکے رویئے سے بڑی شکایتیں ہیں، لیکن کبھی تم نے اپنے رویئے اوراپنے الفاظ پر غور کیا ؟ تم تنہا دس روایتی مولویوں سے زیادہ زہریلے ہو، کیا تمہاری پوسٹیں کوثر و تسنیم میں دھلی ہوتی ہیں ؟ کیا ان میں استعمال ہونے والے الفاظ کو عودِ ہندی کا دخنہ دیا گیا ہوتا ہے ؟ کیا تمہارے عناوین کا خمیر مشک و عنبر سے اٹھتا ہے ؟ اور کیا تمہاری فکر آب حیات کے کٹورے سے نسبت رکھتی ہے ؟ کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ میں نے ایک بار بھی تمہاری عزت پر لفظ تو کیا حرف بھی اچھالا ہو ؟ اور جو تم کرتے آرہے ہو اسے ثابت کرنے کے لئے تمہارے ضمیر کا آئینہ ہی کافی ہے بشرطیکہ مر نہ گیا ہو، آخری بار سمجھا رہا ہوں اپنی حد میں رہو اور کسی اچھےمعالج سے ہاضمے کا علاج کراؤ۔
ــــــــــــــــــــــــــ
تم اپنے رویئے پر غور کرو، میں نے جب بھی دی تمہیں عزت ہی دی اور تم نے جب بھی اچھالی میرے منہ پر خاک اچھالی، میں نے تمہیں دوست بنایا اور صاف کہدیا مجھے تمہارے نظریات سے کوئی غرض نہیں، تم ایک دوست ہو اور دوست رہوگےاور تمہارا یہ حال ہے کہ پشت پر وار کے مواقع ڈھونڈتے ہو، مجھے معلوم ہے تم مطالعے کی ابتدائی سٹیج پر ہو یہ ابتدائی مطالعہ چیری جیسی تاثیر رکھتا ہے، اس تاثیر کے زیر اثر تم بد ہضمی کا شکار ہو،سو جو نگلا ہے اسے اگلنے کو بیقرار ہو، تم میری وال کو پبلک ٹوائلیٹ سمجھ کر دوڑے چلے آتے ہو، یہاں موقع نہ ملے تو اپنی ہی وال کو حالیہ تاریخ کا ڈی چوک بنا دیتے ہو، بظاہر تمہیں روایتی مولویوںکے رویئے سے بڑی شکایتیں ہیں، لیکن کبھی تم نے اپنے رویئے اوراپنے الفاظ پر غور کیا ؟ تم تنہا دس روایتی مولویوں سے زیادہ زہریلے ہو، کیا تمہاری پوسٹیں کوثر و تسنیم میں دھلی ہوتی ہیں ؟ کیا ان میں استعمال ہونے والے الفاظ کو عودِ ہندی کا دخنہ دیا گیا ہوتا ہے ؟ کیا تمہارے عناوین کا خمیر مشک و عنبر سے اٹھتا ہے ؟ اور کیا تمہاری فکر آب حیات کے کٹورے سے نسبت رکھتی ہے ؟ کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ میں نے ایک بار بھی تمہاری عزت پر لفظ تو کیا حرف بھی اچھالا ہو ؟ اور جو تم کرتے آرہے ہو اسے ثابت کرنے کے لئے تمہارے ضمیر کا آئینہ ہی کافی ہے بشرطیکہ مر نہ گیا ہو، آخری بار سمجھا رہا ہوں اپنی حد میں رہو اور کسی اچھےمعالج سے ہاضمے کا علاج کراؤ۔
No comments:
Post a Comment