Tuesday, January 5, 2016

Skoon ki Talash

  سکون کی تلاش میں دربدر بھٹکنے والے متوجہ ہوں!  
مریض کو اس بات کا شعور ہوتا ہے کہ یہ سب باتیں بلاوجہ اور بے سود ہیں مگر پھر بھی نہ اپنے خیالات کو روک سکتا ہے اور نہ ہی اُن پر عمل ترک کرسکتا ہے چنانچہ نہ صرف وہ خود بلکہ اس کے عزیز و اقارب بھی اذیت میں مبتلا رہتے ہیں۔
(اُم احمد)
اس کیفیت میں مریض کو ایک خیال بار بار تنگ کرتا ہے۔ عموماً یہ خیال پاکی‘ ناپاکی‘ صفائی‘ ستھرائی‘ مزید بیماری یا جنس سے متعلق ہوتے ہیں۔ مریض ان خیالات کو فضول سمجھتا ہے۔ یہ اپنے ذہن سے ان خیالات کو ہٹانا چاہتا ہے لیکن یہ خیالات پھر بھی اُس کے ذہن میں آتے چلے جاتے ہیں۔ بعض اوقات مریض ایک ہی عمل کو بار بار دہراتا ہے مثلاً ہاتھ دھونا‘ کھڑکیاں‘ دروازے‘ تالے اور چولہا کئی مرتبہ دیکھنا کہ ٹھیک طرح بند ہیں کہ نہیں۔ اس عارضہ کی وجہ سے قوت فیصلہ میں کمی اور اُداسی بھی رہتی ہے۔ ہرچند کہ یہ بیماری عام نہیں پھر بھی جس کو یہ ہوجاتی ہے اس کیلئے سوہان روح بن جاتی ہیں۔ اس بیماری میں تکلیف دہ خیالات کا تسلط بھی ہوتا ہے اور اعمال کی بے جا تکرار بھی۔ یہ دونوں کیفیات ایک ساتھ بھی ہوسکتی ہیں اور علیحدہ علیحدہ بھی۔
خیالات کا تسلط: انسانی دماغ میں خیالات ہر وقت آتے رہتے ہیں یہاں تک کہ سوتے میں بھی خوابوں کی شکل میں آتے ہیں۔ خیالات کے تسلط کے عارضہ میں انسان کا دماغ ایسے خیالات کی یلغار کا مرکز بن جاتا ہے جو نہایت تکلیف دہ اور پریشان کن ہوتے ہیں۔ نہ روکے جاسکتے ہیں اور نہ ہی بھلائے جاسکتے ہیں۔ یہ مریض کو اتنی اذیت دیتے ہیں اور اتنا ہلکان کرتے ہیں کہ وہ ان سے چھٹکارا پانے کیلئے خودکشی تک کے منصوبے بنانے لگتا ہے اور شدید نقاہت‘ اُداسی اور پریشانی کا شکار ہوجاتا ہے۔ گناہ کی طرف مائل کرنے والے خیالات کی وجہ سے وہ سمجھتا ہے کہ شیطان اُس پر مسلط ہوگیا ہے اور یقین کرتا ہے کہ اس کی بخشش نہیں ہوسکتی۔ اس دنیا میں تو اذیت میں ہے ہی مرنے کے بعد بھی وہ فی النار ہوگا۔ ایسے مریض کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے وہ ہر وقت آنسو بہاتا رہتا ہے اور آہ و زاری کرتا رہتا ہے۔ کسی کو اپنا دُکھ نہیں بتاسکتا کیونکہ وہ اپنے ناپاک خیالات کسی کے سامنے زبان پر ہرگز نہیں لاسکتا۔ ایسے بعض لوگوں میں مقدس ہستیوں کا خیال آتے ہی عجیب و غریب خیالات ذہن میں آنے لگتے ہیں۔ ان سب سے انکار کا خیال آتا ہے عبادت کے دوران یہ خیالات شدت اختیار کرلیتے ہیں۔ دوسری قسم کے خیالات گندگی سے متعلق ہیں۔ اپنے جسم کے مختلف حصے ہروقت گندے اور ناپاک محسوس ہوتے ہیں خصوصاً دوسرے لوگوں سے چھونے کے اور رفع حاجت کے بعد کبھی جراثیم لگ جانے کا خوف مسلط ہوجاتا ہے یا کسی مہلک بیماری ہوجانے کا خوف‘ مثلاً مرض قلب‘ سرطان‘ ٹی بی وغیرہ۔ تکرار عمل: مندرجہ بالا مسائل تو صرف خیالات اور ان کی اذیت تک محدود ہوتے ہیں مگر تکرار عمل اس پر ایک اضافہ ہے یعنی وہ سب کیفیات بھی موجود ہوتی ہیں اور مزید یہ کہ مریض کچھ مخصوص عمل کرنے لگتا ہے۔ سب سے عام فعل یہ کہ ہاتھوں کو بار بار دھونا۔ اس میں کچھ لوگ گھنٹوں اپنے ہاتھوں کو دھوتے رہتے ہیں۔ کئی لوگ وضو کرنے میں گھنٹوں لگادیتے ہیں کیونکہ اُن کو وہم رہتا ہے کہ ابھی تمام اعضاء ٹھیک طرح سے نہیں دھلے۔ نہانا تو ان کیلئے مزید مشکلات پیدا کردیتا ہے۔ بعض لوگ تو رفع حاجت کے بعد نہانے سے کم کسی صفائی کو قبول ہی نہیں کرتے۔ بعض دھوبی کے دھلے کپڑے بار بار دھلواتے ہیں‘ قالینوں کو منوں پانی میں غوطے لگواتے ہیں مگر پھر بھی مطمئن نہیں ہوتے کہ یہ چیزیں پاک صاف ہوچکی ہیں۔ شریک حیات اور بچوں سے بچ بچ کر رہا جاتا ہے کہ کسی کی گندگی نہ لگ جائے۔
وجوہات: اس مرض کے بارے میں حتمی طور پر معلوم نہیں ہے کہ اس مرض کی اصل وجہ کیا ہے۔ موروثی اثرات بھی بعض اوقات اس مرض کی وجہ بنتے ہیں۔ دماغ میں شعوری اور غیرشعوری طور پر جو بُرے خیالات آتے ہیں اکثر لوگ ان خیالات کو گندے خیالات سمجھتے ہیں اور ان کو گناہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہ خیالات کی گندگی ’’خیالی‘‘ گندگی بن جاتی ہے اور اس خیالی گندگی کو غیرشعوری طور پر دھونے دھلانے سے صاف کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
علاج: اس بیماری میں زیادہ تر نفسیاتی علاج کیا جاتا ہے۔ نفسیاتی گفتگو: مریض کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ خیالات کا تسلط ایک بیماری ہے‘ کوئی شیطانی وسوسہ نہیں اس لیے اس کی وجہ سے گنہگار ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ خیالات کے بارے میں علاج کا عام اصول یہ ہے کہ خراب یا گناہ کی بات کے خیال خصوصاً غیرارادی طور پر آنے والے خیال کو بھی قابل معافی بتایا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر مومن نیکی کا ارادہ بھی کرتا ہے تو اسے ثواب ملتا ہے جب وہ اس نیک کام کو کرنے کیلئے چل دیتا ہے تو مزید ثواب ملتا ہے اور جب وہ نیکی کاکام وقوع پذیر ہوجاتا ہے تو مزید ثواب ملتا ہے۔ اس کے برعکس جب انسان بدی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو کوئی گناہ نہیں ملتا اور جب وہ بدی پر عمل کرگزرتا ہے تب وہ گنہگار ہوتا ہے۔ مریض کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ برے اور مکروہ خیالات کا آجانا گناہ کی بات نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان خیالات پر عمل نہ کیا جائے محض خیال سے کوئی شخص گناہ گار نہیں ہوتا۔خیالات کے تسلط کو روکو: مریض کو چاہیے کہ خیالات کے تسلط کا مقابلہ کرے۔ اس کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے بلکہ انہیں شعوری طور پر رک جانے کا حکم دے۔ پہلے خیالات کو شعور میں لاکر منہ سے یہ الفاظ نکالے ’’رک جاؤ‘‘ اس کی بار بار مشق سے بہت فائدہ ہوگا۔ اسی طرح اپنے آپ کو تکرار عمل کے حوالے نہ کردیا جائے۔ گھر کے افراد کو سمجھنا چاہیے کہ متعلقہ مریض خود بے بس ہوتا ہے اس لیے ناراض ہوکر یا لڑائی جھگڑا کرکے اس کے مرض اور مشکلات میں اضافہ نہ کیا جائے بلکہ اس سے پیارو محبت کا برتاؤ کیا جائے۔
خیالی گندگی سے ٹکراؤ: ایک طریقہ علاج یہ ہے کہ جس چیز سے مریض کو گھن آرہی ہو اس سے تکرار عمل پیدا ہورہی ہو اس چیز کو جسم سے لگا دیا جائے۔ معالج گندگی کو چھو کر دکھائے جس چیز سے چھونے کے بعد یا دیکھنے کے بعد تکرار عمل شروع ہوتا ہے اس کومعالج خود چھو کر اور پکڑ کر دکھائے تاکہ مریض کو بھروسہ ہوکہ اس سے کچھ نہیں ہوتا۔
سکون کی تلاش: آج پورا عالم سکون کی تلاش میں ہے‘ ادویات سے لے کر سامان آرائش و آسائش تک تمام چیزیں صرف سکون حاصل کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہیں لیکن کائنات کے بنانے والے نے ان چیزوں میں سکون نہیں رکھا بلکہ دلی سکون یادالٰہی میں ہے جنہوں نے یادالٰہی کو دل میں بسایا اولیائے کرام کا مروجہ طریقہ یعنی مراقبے کو اختیار کیا وہ ہمیشہ سکون میں رہے اور رہیں گے۔ ماہرین نے تجربہ کیا ہے اگر مکمل توجہ سے مراقبہ کیا جائے تو بے چینی‘ خوف کا احساس اور کھلی جگہ کا خوف جیسی علامات کم ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ مراقبے کا عمل آپ کے اندر خوشی کا احساس پیدا کرتا ہے۔صبح کے اوقات چہل قدمی اور کھلی ہوا میں تیز چلنا دماغ کو صاف و تازہ اور بیدار کرنے میں بڑا معاون ہے‘ قوت فکر بڑھتی ہے‘ ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے‘ دوران خون بڑھتا ہے‘ جسم کے ہر حصے کوآکسیجن ملتی ہے

No comments:

Post a Comment